NowNews.pk | 24/7 News Network

آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونا والا سے خصوصی گفتگو

نئی حکومت سے تاجر مایوس، حکومتی کاروبار مخالف پالیسی سے کاروبار ٹھپ، شناختی کارڈ کی شرط پر ڈیڈ لاک برقرار، آخری آپشن صرف ہڑتال، ملک ہڑتالوں اور اندرونی اختلافات کا متحمل نہیں، آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونا والا کی ناؤ پاکستان سے خصوصی گفتگو

انٹرویو : ایچ این

حکومت کی تمام پالیسیاں کاروبار مخالف ثابت ہوئیں، صدر آل سٹی تاجر اتحاد

انٹرویو کے دوران آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونا والا کا کہنا تھا کہ دس سالوں میں معیشت نقصان سے دوچار رہی، نئی حکومت سے بہت توقعات تھیں کہ معیشت و کاروبار میں مثبت تبدیلی آئے گی اور مہنگائی کم ہوگی لیکن اس کے برعکس ہوا اور نئی حکومت کے بعد نہ صرف مہنگائی ہوئی بلکہ کاروبار بھی شدید متاثر ہوا۔

حماد پونا والا کا کہنا تھا کہ حکومت تاجروں کو اعتماد میں لیتی تو مثبت نتائج ملتے۔ حکومت کی تمام پالیسیاں کاروبار مخالف ثابت ہوئیں خاص طور پر بجٹ اور پھر ایف بی آر کی حکمت عملی نے تاجر برادری کو بہت متاثر کیا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم ٹیکس نہیں دینا چاہتے، کراچی کے تاجر ٹیکس دیتے ہیں اور دینا چاہتے ہیں لیکن مرحلہ وار طریقہ کار کے تحت۔ اس سے پہلے کبھی حکومت کی جانب سے اچانک ٹیکسز کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ ٹیکسز کی زیادتی نے تاجروں کی پریشانیوں میں اضافہ کیا۔ حکومتی دباؤ کی وجہ سے تاجر خوف کا شکار ہیں، کاروبار مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔

نہ جانے کیوں چئیرمین ایف بی آر شناختی کارڈ کی شرط پر بضد ہیں، حماد پونا والا

آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر نے بتایا کہ سب سے زیادہ پریشان کن معاملہ پچاس ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کا ہے۔ ماضی میں شناختی کارڈز کا غلط استعمال کیا گیا، ایک آدمی کے نام پر کئی کئی موبائل سمز جاری ہوئیں، یہی نہیں شناختی کارڈز کے زریعے جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے، جائیدادیں خریدی گئیں اور اثاثے بنائے گئے۔ اب کیسے یقین کرلیں کہ شناختی کارڈز کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔ دنیا میں کہیں ایسا قانون نہیں جہاں خریداری پر شناختی کارڈ دینا پڑے۔

حماد پونا والا نے چئیرمین ایف بی آر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی ڈاکٹر نے چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کو شناختی کارڈ کی لازمی شرط کی تجویز دی ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے واضح بھی نہیں کیا جاتا کہ شناختی کارڈ ضروری کیوں ہے۔ یہ معاملہ کاروبار خراب کردے گا، کاروبار چلے گا تو ملکی معیشت چلے گی۔ تاجروں کے لئے سہولیات بڑھائی جائیں نہ کہ پریشانیاں۔

تاجروں پر دباؤ ڈالنے سے بہتر ہے پورٹس پر کرپشن اور اسمگلنگ کی روک تھام کی جائے، حماد پونا والا

آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر نے بتایا کہ اسلام آباد میں چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی صاحب سے ملاقات ہوئی جہاں فکسڈ ٹیکس پر اچھا آپشن دیا گیا لیکن تاجروں کے زیادہ تحفظات شناختی کارڈ کی شرط پر ہیں جس پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ چئیرمین ایف بی آر کو تجویز دی ہے کہ جائز کام کرنے والوں پر ٹیکسز کے لئے دباؤ ڈالنے سے بہتر ہے کہ پورٹس پر ہونے والی کرپشن اور اسمگلنگ کی روک تھام کی جائے، اگر اس پر قابو پالیا تو حکومت کے کئی اہداف تو ویسے ہی پورے ہوجائیں گے۔ ساتھ ہی جن شخصیات کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ان سے بھی ملک کا لوٹا ہوا پیسہ وصول کیا جائے۔ حکومت جو بھی اقدام کرے وہ ملکی مفاد میں ہو کسی سے ذاتی یا سیاسی انتقام نہ لیا جائے۔

شبر زیدی سے گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات تلخیوں کی نذر ہوگئی، حماد پونا والا

انہوں نے مزید بتایا کہ سب سے پہلے آل سٹی تاجر اتحاد نے ہڑتال کی کال دی تھی جو گورنر سندھ کی یقین دہانی پر واپس لے لی گئی پھر تاجر ایکشن ایکشن کمیٹی کی جانب سے تین دن کی ہڑتال کی کال دی گئی جسے ایک بار پھر گورنر سندھ عمران اسماعیل کی مداخلت پر واپس لی گئی۔ ماضی میں روایت رہی ہے کہ جب شنوائی نہیں ہوتی تو ہڑتال کردی جاتی تھی۔ کبھی ہڑتال کے حامی نہیں رہے لیکن حکومت کی کاروبار مخالف پالیسیوں کے باعث ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہوئے۔ اس سلسلے میں چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی سے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی موجودگی میں گورنر ہاؤس میں ملاقات ہوئی جو تلخیوں کی نذر ہوگئی۔ ملاقات میں چھ رکنی وفد کو ملنا تھا لیکن وہ تعداد چالیس میں تبدیل ہوگئی اور ملاقات کو متنازع بنادیا گیا۔

کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے تاجر تنظیموں کو استعمال نہیں کرسکتے، حماد پونا والا

حماد پونا والا کا کہنا تھا کہ آل پاکستان انجمن تاجران نے بھی ہڑتال کی کال دی جس سے کراچی کے تاجروں نے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ لاتعلقی کا مقصد یہ تھا کہ اچانک کوئی پنجاب سے آکر کہے کہ ہڑتال کرنی ہے جس کی کراچی کے تاجروں میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اگر کوئی تنظیم پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے لئے یا سیاسی مقاصد کے لئے ہڑتال کرکے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے تو وہ اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاجر تنظیموں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے تاجر تنظیموں کو استعمال نہیں کرسکتے، اسی لئے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کراچی میں ہڑتال کامیاب نہیں ہونے دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام تر مذاکرات اور گذارشات کے باوجود اگر حکومت کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو نہ چاہتے ہوئے بھی تاجر تنظیموں کے ساتھ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اگر یہی حالات رہے تو آنے والے کچھ ہی مہینوں میں معیشت کا پہیہ رک جائے گا اور کاروبار، تجارت و سرمایہ کاری کوچ کرنے پر مجبور ہوگی۔

مقبوضہ کشمیر کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے، ابھی ملک ہڑتالوں کا متحمل نہیں، حماد پونا وال

آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر کا کہنا تھا کہ ان حالات میں کہ جب مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اتنا شدت اختیار کرگیا ہے تو ایسی صورتحال میں ملک ہڑتالوں اور اندرونی اختلافات کا متحمل نہیں۔ میں وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف اور تاجر برادری سے اپیل کروں گا کہ تاجروں سے متعلق معاملات کو تین ماہ کے لئے موخر کیا جائےتاکہ جو کاروبار چل رہے ہیں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے چلتے رہیں۔ ہم دنیامیں ایک اچھا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جب بھی ملک و قوم پر برا وقت آتا ہے تو پوری قوم ایک ہوجاتی ہے۔ یہ وقت ایک دوسرے سے اختلافات کا نہیں۔

 

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔