NowNews.pk | 24/7 News Network

۔ 1965 کی جنگ، کب کیا ہوا (تحریر: صدف ہلال)

چھ ستمبر انیس سو پینسٹھ کو آج ہی کے دن پاکستان افواج کے بہادر سپوتوں نے دشمن کو کاری ضرب لگا کر منہ توڑ جواب دیا تھا جو تا دنیا تک یاد رہے گا۔ ملک بھر میں یوم دفاع آج ملی جوش وجذبے سے منایا جارہا ہے۔

02 ستمبر 1965

بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے گذشتہ دنوں پاک فوج کے ہاتھوں اپنا بھاری جانی و مالی نقصان ہونے کا اعتراف تو کیا لیکن ساتھ ساتھ مزید جارحیت کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

پاکستان کے اس وقت کے صدر ایوب خان نے اس دھمکی کے جواب میں بھارت کو خبردار کیا کے کسی بھی قسم کی جارحیت کا پھر بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود بھارت ہی ہوگا۔

ایوب خان کے بھارت کے اس جواب کے ساتھ ہی جی ایچ کیو نے بھی تمام فارمیشنز کو وارننگ آرڈر جاری کیے۔ اور بھارتی افواج کی بڑھتی ہوئی جنگی تیاریوں کی صورت میں دو ستمبر کی صبح تک کنسنٹریشن ایریا سنبھالنے کی ہدایت کی۔

اس سب کے باوجود جنگ کے نشے میں چور بھارت کسی طور باز نہ آیا۔ ایک دفعہ پھر بھاری نقصان کا سامنا کیا۔

اور پاکستان کے ہاتھوں سونا مارگ کے نزدیک اپنی پوری پلاٹون کا صفایا کروا بیٹھا۔ صرف یہی نہیں دوسری طرف آزاد کشمیر کی فوج نے پاکستانی افواج کی مدد سے چھمپ میں پیش قدمی جاری رکھی۔ یہاں پر نہ صرف پندرہ بھارتی ٹینک قبصے میں لیے بلکہ ڈیڑھ سو بھارتی فوجیوں کو بھی قیدی بنایا ۔

بھارت کی بزدلانہ جارحیت اور پاکستان کے منہ توڑ جواب کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بزدلی اور جواب میں بہادری کی داستان بڑھتی گئی۔ ہر روز نئی تاریخ لکھی گئی ۔

03 ستمبر 1965

چھمب سیکٹر میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں اپنے پندرہ ٹینک گنوانے اور پانچ سو فوجی جنگی قیدی بنوانے کے باوجود بھارت کو پھر بھی چین نہ آیا اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے پاک فوج کو للکار کر دوبارہ وہی غلطی کرڈالی۔

بھارت چھمب سیکٹر میں اپنا بھاری جانی و مالی نقصان کرانے کے باوجود جارحیت پر تلا رہا جس کا جواب ایک بار پھر پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے چھ جہازوں میں سے تین کو گرا کر دیا ۔۔ صرف یہی نہیں اس وقت کے پاکستانی فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اللہ اور فلائٹ آفیسر عباس مرزا نے ایک بھارتی طیارے کو پسرور ائیر فیلڈ پر اتار کر اس میں سوار بھارتی پائلٹ برج پال سنگھ کو جنگی قیدی بھی بنا ڈالا۔

دوسری جانب اس وقت کے لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر غلطی سے بھمبر سیکٹر کی ایک بھارتی پوزیشن پر اپنا ہیلی کاپٹر اتار بیٹھے لیکن اپنی حاضر دماغی اور خود اعتمادی کے ساتھ وہاں موجود تیس بھارتی سپاہیوں کو یہ تاثر دے کر جنگی قیدی بنالیا کہ پاک فوج نے اس پوزیشن کا محاصرہ کرلیا ہے ۔۔ نصیر اللہ بابر کے پاس اس وقت ایک پستول کے سوا کچھ نہ تھا۔

یوں ہر روز پاک فوج شجاعت کی ایک نئی داستان رقم کرتی گئی اور ہر دن دشمن کو شکست کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا ۔

04 ستمبر 1965

بھارت کی لومڑی جیسی چالبازیوں اور گیڈر جیسی بزدلانہ حرکتوں کو پاکستان کی آبی سرحدی محافظوں نے بھی بھانپ لیا۔ اس وقت کے امیرالبحر ایڈمرل افضل الرحمان خان نے بحریہ کی تمام یونٹوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کا حکم دیا۔

بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے طویل فاصلے تک مارکرنے والی آبدوز پی این ایس غازی بالکل تیار تھی۔ غازی کو بھارتی طیارہ بردار وکرانت، آئی این ایس میسور اور آئی این ایس دہلی سے لاحق خطروں کا رخ موڑنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

سمندر کے ساتھ خشکی پر لڑنے والے بھی چوکس رہے۔ جوڑیاں سیکٹر میں سیکنڈ لیفٹننٹ شبیر شریف کی سربراہی میں سکس ایف ایف رجمنٹ کی پلاٹون اور دشمن کے درمیان سخت معرکہ جاری رہا۔ اس معرکہ میں کئی جوان شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوئے۔

سیکنڈ لیفٹننٹ شبیر شریف نے نہ صرف اپنے سپاہیوں کو بھارتی فوج کے نرغے سے نکالا بلکہ انہیں پھر منظم کرکے دوبارہ حملہ بھی کیا اور چھ شہدا کے جسد خاکی اور پندرہ زخمیوں کو وہاں سے نکال لائے ۔۔ انھوں نے تیسری بار بھی حملہ کیا اور دشمن کی توپیں بلآخر خاموش کرانے میں کامیاب ہوئے ۔۔۔ اس بے مثال قیادت اور بہادری کے اعتراف میں انھیں ستارہ جرات سے نوازا گیا ۔۔

راجوری سیکٹر میں لبریشن فرنٹ نے بھارتی ملٹری قافلے پر حملہ کرکے اڑتیس بھارتی فوجیوں کو ہلاک اور کئی کو گرفتار کیا ۔۔

پاک فضائیہ نے بھی اپنی جرات کے قصے فضا میں رقم کیے۔ چالیس بھارتی طیاروں کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا دیکھ کر دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کیا۔

یوں ہر روز پاک فوج نے شجاعت کی نئی داستان رقم کی۔ ہر دن دشمن کو اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کیا۔

بھارت کی رسوائی کی داستان اسی طرح آگے بڑھتی رہی۔۔عیار دشمن کو مزید کس مقام پر کس طرح سبکی ہوئی۔۔اس کی تفصیل ہم کل دکھائیں گے۔

05 ستمبر 1965

بھارتی وزیر اعظم کی دھمکی کے جواب میں اس وقت کے وزیر اطلاعات خواجہ شہاب الدین نے شاستری کوخبردار کیا کے وہ جان لیں کہ ہندوستان اس قوم کا للکار رہا ہے جو اپنی مٹی کی خاطر جان دینے سے گریز نہیں کرے گی ۔۔۔

شہاب الدین نے مزید کہا کے لال بہادر شاستری ان دھمکیوں سے پاکستان کو نہیں بلکہ خود کو اور اپنی عوام کو دھوکا دے رہا ہے۔

ادھر رات بھر کی گھمسان کی جنگ کے بعد پاک فوج نے بل آخر جوڑیاں پر قبضہ کرلیا ۔۔ بھارتی فوج پسائی اٹھانی پڑی۔۔اور اسے دوسرے مضبوط ترین قلعے سے سیزفائر لائن کے بھی اٹھارہ میل پیچھے دھکیل دیا گیا۔۔

آج ہی کے دن ۔۔ کشمیری حریت پسندوں نے مقبوضہ کشمیر کے کئی مقامات پر بھارتی فوج کو نشانہ بنا کر دشمن کے پچاس فوجی ہلاک اور متعدد زخمی کردیئے۔

سمندروں کی حفاظت کرتی ۔۔۔ ۔۔ پاکستانی آبدوز غازی بھی ہندوستانی میزور کروز پر حملے کے لیے تیار تھی جو ممبئی میں مغربی ساحل کی طرف آگے بڑھ رہا تھا۔۔اسی طرح فضاوں میں پاک فضائیہ بھی چوکس رہی جو بھمبر سیکٹر میں فضائی گشت جاری رکھے ہوئے تھی ۔۔

یوں ہر روز پاک فوج شجاعت کی ایک نئی داستان رقم کرتی گئی اور ہر دن دشمن کو شکست کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا ۔۔

06 ستمبر 1965

پہ در پہ ناکامیوں کے دوران ہی بھارتی فوجیوں نے لاہور میں ناشتہ کرنے کا خواب دیکھ لیا۔ اس خواب میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے چھ ستمبر کی صبح چار بجے نہایت مکاری سے تین طرف سے لاہور پر چڑھائی کی۔ لیکن مہم جوئی کے جنون میں یہ بھول گئے کہ دوسری طرف پاک سرزمین کے محافظ چوکس ہیں۔ بھارت کی یہ بے خبری ہی اُس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔

پاک فوج نے جسٹر کی طرف سے سیالکوٹ پر اور فیزپور کی طرف سے قصور پر کیا گیا حملہ صرف ناکام ہی نہیں بنایا۔ بھارت کو بھاری جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا۔

جسٹر کے مقام پرگھمسان کی جنگ کے بعد بھارتی فوجیوں کو پیچھے دھکیلا۔ دریائے راوی کا جنوبی علاقہ چندگھنٹوں میں خالی کرالیا ۔ بھارت کے ملیا میٹ ہونے والے ٹینک ، گاڑیوں کی باقیات اور واصل جہنم ہونے والے بھارتی فوجیوں کی لاشیں خود دنیا کو بھارتی ہزیمت کی داستان سنارہی تھیں۔

واہگہ اور بیدیاں کے محاذوں پر بھی نہ صرف بھارتی حملہ پسپا کیا گیا بلکہ بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایاگیا۔ بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بھی بنایا گیا۔ لاہور کے محاذ پر متعدد بھارتی ٹینک ، گاڑیاں اور ہر قسم کا فوجی ساز و سامان تباہ کیا گیا۔

چھمب کے مقام پر بھی صورتحال مختلف نہ تھی ۔ دور دور تک بھاگتے دشمن کا اسلحہ بکھرا پڑا تھا۔ اسی مقام پر پینتیس بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بھی بنایا گیا۔

کشمیری مجاہدین نے بھی بزدل دشمن سے مقابلے میں اپنا حصہ ڈالا۔ سری نگر کے قریب دو پل اور ایک سڑک تباہ کی۔ راجوڑی اور پونچھ لائن کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

بری فوج کی طرح بحریہ بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے متحرک رہی اور مقررہ اہداف کو نشانہ بنایا۔

دشمن کی رسوائیوں کی داستان صرف بحر و بَر پر ہی نہیں فضاؤں میں بھی پوری توانائی کے ساتھ لکھی گئی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر کامیاب ترین حملہ کرکے بھارت کے بائس جہاز تباہ کیے بلکہ ایک طیارے کو راہوالی کے مقام پربھی مار گرایا۔

دوسری طرف ہزارواں زندہ دلان لاہور بارڈر کی طرف جانے والی سڑک پر اپنے بہادر سپوتوں کے شانہ بہ شانہ نکل پڑے۔ سینکڑوں شہریوں نے بھارت کے فضائی حملوں کے خطرے سے بے نیاز ہوکر اسپتالوں کا رُخ کرلیا تاکہ وطن کے تحفظ کے مقدس فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کے لیے اپنا لہو عطیہ کرسکیں۔

سترہ دن کی اس جنگ میں عزم و شجاعت کی کئی لازوال داستانیں لکھی گئیں۔ پاک فوج نے اس دوران کئی مقامات پر دشمن کے دانت کھٹے کیے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔