NowNews.pk | 24/7 News Network

افغان امن مذاکرات کامیاب ہوئے یا ڈیڈ لاک برقرار

بین الافغان امن مذاکرات، پیشرفت یا ڈیڈ لاک؟ حکومتی اور طالبان کی مشترکہ کمیٹی کاآج ہونیوالا اجلاس ملتوی تاہم فریقین کے رابطہ گروپوں کے درمیان اتوار کو پہلی ملاقات ہوئی۔

زلمے خلیل آج اسلام آباد میں عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقات کرینگے، سربراہ افغان امن کونسل کاکہناہےکہ طالبان اپنے دیگرجنگجوؤں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیشکش کرسکتے ہیں، امریکی وزیر خارجہ کاکہناہےکہ بلا شبہ آئندہ مذاکرات میں کئی چیلنجزکا مقابلہ کرینگے۔

بعد ازاں عبداللہ عبداللہ کابل کیلئے روانہ ہوگئے جبکہ مائیک پومپیو واشنگٹن چلے گئے، امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کاکہناہےکہ طالبان سے مذاکرات اطمینان بخش، واشنگٹن آئندہ افغانستان میں جمہوری سیاسی نمائندگی اور خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔

ادھر قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے افغان طالبان اورحکومتی وفود سے ملاقاتوں کے دوران کہا ہے کہ افغان قومی اتحاد ، ترقی و خوشحالی کے لئےافغان عوام کی امنگوں کے مطابق امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہوں، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی برادری امن کو حقیقت بنانے کیلئے کوششیں کرے۔

تفصیلات کےمطابق بین الافغان امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوئے یا ان میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، اتوار کو حکومتی اور طالبان کی مشترکہ کمیٹی کا ہونیوالا اجلاس ملتوی کردیاگیا تاہم فریقین کے رابطہ گروپوں کے درمیان اتوار کو پہلی ملاقات ہوئی۔

افغان حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا گیا کہ’’مذاکرات کرنے والی دونوں ٹیموں کے رابطہ گروپوں کے درمیان (اتوار کو) پہلی ملاقات ہوئی، پیغام میں اگلے اقدامات کی تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا کہ مذاکرات کے نظام الاوقات اور ضابطہ اخلاق پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، طالبان ترجمان کی جانب سے بھی اس کی تصدیق کی گئی ہے۔

ذرائع کےمطابق یہ واضح نہیں کہ بین الافغان مذاکرات کس جانب بڑھ رہے ہیں کیوں کہ فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں ۔

ادھر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد آج اسلام آباد پہنچیں گے یہاں وہ اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے،ملاقاتوں میں افغان امن عمل کے اگلے مراحل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق زلمے خلیل بین الافغان مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے پاکستان کو اپناکردار نبھانے کیلئے کہیں گے۔ غیرملکی خبررساںادارے کےمطابق امریکی وزیر خارجہ پومپیونے کہاہےکہ ہم بلاشبہ آنے والے دنوں میں مذاکرات میں بہت سارے چیلنجزکا مقابلہ کریں گے، بعد ازاں وہ امریکا کے لیے روانہ ہوگئے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات میں ترجیحات کی وضاحت کی کہ پہلے دہشت گردی کی روک تھام ایک بڑی شرط تھی لیکن اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو مستقبل میں کانگریس کی منظور کردہ کی کسی بھی فنڈنگ میں اہمیت حاصل ہوگی اور اب خالی چیک نہیں دیا جائے گا۔

افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ اگر طرفین کا تمام نکات پر اتفاق نہیں بھی ہوتا تو انھیں ان پر سمجھوتا کرنا چاہیے اور افہام وتفہیم سے کام لینا چاہیے،انہوں نے مشورہ دیاہے کہ طالبان اپنے مزید قید جنگجوؤں کی رہائی کے بدلے میں جنگ بندی کی پیش کش کرسکتے ہیں،یہ ان کے نظریات میں سے ایک یا ان کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔

بعدا زاں عبداللہ عبداللہ کابل کیلئے روانہ ہوگئے۔علاوہ ازیں قطری امیر سے افغان طالبان اور حکومتی وفود نے ملاتیں کیں جس میں امن مذاکرات اور مستقبل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر قطری امیر نے امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار بھی کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے افغان مہاجرین جلد اپنے وطن لوٹ جائیں گے، عالمی برادری امن کو حقیقت بنانے کیلئے کوششیں کرے جبکہ افغان فریقین بھی امن کو حقیقت بنانے کیلئےجو ممکن ہو وہ سب کریں۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔