NowNews.pk | 24/7 News Network

ولادت باسعادت حضرت علیؑ اور فضائل

از مسرور زیدی

امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت 13 رجب بروز جمعہ بعثت سے 10 سال قبل (کچھ مورخین کے مطابق 7سال قبل بعثت) خانہ كعبہ ميں ہوئی۔ آپؑ کے والد کا نام عمران ابن ابومطلب ؑاور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ؑتھا۔ آپؑ نے دین اسلام کی خدمت میں نا صرف اپنی بلکہ اپنے گھرانے کی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔

حضرت علیؑ کے بارے میں قرآن، حدیث رسولؑ اور صحابہ کرامؓ قصیدے پڑھتے نظر آتے ہیں۔ دین اسلام کی بقا کیلئے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانی پیش کرنے والا گھرانہ بھی مولائے کائنات حضرت علیؑ ہی کا تھا۔ آپؑ ہی کے فرزندوں ؑ نے اسلام کی خاطر نا صرف ہر غم کو گلے لگایا بلکہ اپنا گلا دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔

امام متقین ؑ کی فضیلت اورعظیم الشان منزلت کے بارے میں مختلف آیات نازل ہوئیں ہیں۔
اللہ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَيَقُوْلُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۗ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ ۖ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (سوره رعد 7)۔
ترجمہ: آپﷺکہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے۔

طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو آپﷺ نے علیؑ کے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:”انت الھادي بک یھتدي المھتدون بعدي
ترجمہ:آپؑ ہا دی ہیں اور میرے بعد ہدایت پانے والے آپؑ سے ہدایت پا ئیں گے ۔ (کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۵۷)

پروردگار عالم قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ رٰكِعُوْنَ (المائدہ۵۵)
ترجمہ: تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسولﷺ اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔

یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی، جب مسجد نبوی میں آپؑ نے حالت رکوع میں ایک سائل کو اپنی انگوٹھی عطا فرمائی۔ اس روایت کو اکثر محدثین، مؤرخین اور مفسرین نے ذکر کیا ہے جیسے کہ تفسیر طبری ۶: ۱۸۶، اسباب نزول واحدی، تفسیر در منثور سیوطی۔

خداوند عالم کا فرمان ھے إِنَّمَایُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا (سورہ احزاب ۳۳)
ترجمہ: بس اللہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت پانچوں اصحاب کساء کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ ان میں سرکار دو عالم رسول خدا ﷺ،ان کے جانشین امام امیر المومنینؑ، جگر گوشہ رسول سیدۃ نسا ء العالمینؑ جن کے راضی ہونے سے خدا راضی ہوتا ھے اور جن کے غضب کرنے سے خدا غضب کرتا ہے، ان کے دونوں پھول امام حسنؑ و امام حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں۔

جہاں مولائے کائنات حضرت علیؑ کی فضیلت سے اسلامی کتب بھری ہوئی ہیں وہیں آپؑ کے علم، شجاعت، اور رحم دلی کے واقعات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

مولا مشکل کشاؑپر خارجی ابن ملجم نے 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار کے ذریعہ نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا۔ حضرت علی بن ابی طالبؑ زخمی ہوئے اور دو دن بعد 21 رمضان 40ھ کو شہادت پائی۔ آپؑ کی زندگی انسانیت کیلئے عظیم رہنمائی کا سامان لیے ہوئے ہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔