NowNews.pk | 24/7 News Network

کورونا اور شوہروں کا رونا (تحریر: مسرور زیدی)

از مسرور زیدی

اس کڑوے وقت میں کورونا وائرس کا خوف اور پولیس کی دہشت نے جیسے عام شہری کو آم جیسا پلپلا بنادیا ہے۔ باہر ڈنڈے اور گھر میں الجھن بھرے فنڈے، بندہ جائے تو جائے کہاں؟

ہر ایک شے پر چلتے زمانے نے ترقی کی گرہیں لگائیں، سائنس ترقی کرتی رہی، وبائیں پھوٹتی رہیں اور علاج دریافت ہوتے گئے، جینے کے ڈھنگ بھی بدل گئے لیکن یقین جانیں جو نا بدلہ وہ ہے شوہر اور اس کے مسائل۔

حالت کی خرابی کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ مختلف ٹی وی شوز اور ویب سائٹس پر ماہرین صحت کا اس بات پر زور ہے کہ بیویاں آرام سے بات کیا کریں تاکہ شوہر گھروں پر ٹک سکے۔ بات اس حد تک ہاتھ سے نکل چکی ہے کہ ملیشیا کے حکومتی ادارے تک نے گھریلو ناچاکی سے بچنے کیلئِے خواتین کو تیار رہنے اور پرامن لہجے میں بات کرنے کا مشورہ دیا۔

https://www.independent.co.uk/news/world/asia/coronavirus-malaysia-outrage-women-ministry-makeup-lockdown-a9437851.html

یہ اور بات ہے کہ لوگوں کے پھڑپھڑا دینے والے ردعمل نے حکومتی ادارے کو مشورے واپس لینے پر مجبور کردیا۔

اب کل کی بات کریں تو ایک صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے بھائی کیا میں پولیس کے ڈنڈے برداشت کرسکتا ہوں؟ میں نے کہا اللہ خیر کرے ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟ بولے بیوی کی زبان سے زیادہ سخت تو نہ ہوگا ڈنڈا۔۔۔ ایک دوست نے انکشاف کیا کہ اب وہ بیوی کا محتاج نہیں رہا۔ بیگم کے حکم پر کھانے بنا بنا کر اور برتن دھو دھو کر خودکفیل ہوگیا ہے۔

ایک شدید ترین کنوارے دوست نے فیس بک پر بتایا کہ اس کی شادی ہورہی ہے۔ دو دن بعد نیوز چینل پر سنا دلہا کو پولیس اٹھا کر لے گئی۔ جناب کی خوش قسمتی پر رشک سا آیا۔

آفس میں کولیگ کہنے لگے یار ہفتے بھر کی چھٹی ملی مزہ آگیا خوب فلمیں دیکھیں۔ ہمارے یہ کہنے پر ناراض ہوگئے کہ اچھا تو بھابھی ایک ہفتے کیلئے مائیکے گئی تھیں۔

مسئلوں کا شکار صرف شوہر ہی نہیں بیویاں بھی ہوتی ہیں۔ بے چاری ہر وقت تکلیف میں رہتی ہیں۔ گھر کے سارے کام ماسی سے کروانا آسان کام نہیں بھئی۔ اب تو ماسی بھی نہیں خود سارے کام کرنا، بچے سنبھالنا اور پھر جب شوہر آفس سے واپس آئے تو دس منٹ اس کو چولہے پر ابالنا۔

ان سب باتوں کے باوجود بیویوں کے بغیر شوہروں کو چین نہیں ملتا۔ دو دن کیلئے بیوی بیمار ہوجائے تو گھر سنبھالتے سنبھالتے چودہ بلکہ اٹھائیس طبق روشن ہوجاتے ہیں۔

گھروں پر رہیں اور بیویوں سے پیار سے بات کریں۔ کیوں کہ ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔