NowNews.pk | 24/7 News Network

سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب کی ناؤ نیوز سے خصوصی گفتگو

انٹرویو: ایچ این، نمائندہ خصوصی، کراچی

شہری پولیس اسٹیشن جانے سے کتراتے تھے، وہ جانتے تھے کہ ان کی شنوائی نہیں ہوگی، چیف سی پی ایل سی

سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے سربراہ زبیر حبیب نے ناؤ پاکستان کو انٹرویو میں بتایا کہ سی پی ایل سی کے قیام کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان خلا کو پر کرنا تھا، اکثر لوگ پولیس اسٹیشن جانے سے کتراتے تھے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ وہاں ان کی رسائی یا شنوائی نہیں ہوگی، پولیس پر تنقید کے بجائے اصلاح کی ضرورت ہے۔ جن چیزوں میں پولیس کو مہارت حاصل نہیں اس کے لئے ان کی تربیت کرنا ہوگی۔ موجودہ دور میں عوام کا پولیس پر کس حد تک اعتماد بحال ہوا ہے یہ جانچنا مشکل ہے اس کے لئے سروے کرنا ہوگا۔

کراچی کے حالات بہتر کرنے میں رینجرز کا اہم کردار ہے، زبیر حبیب

زبیر حبیب کا کہنا تھا کہ 2013 میں خراب حالات پر قابو پانے کے لئے آپریشن شروع ہوا جس کے بعد کافی حالات بہتر ہوئے، ایک وقت تھا کہ روزانہ ہڑتالیں ہوتی رہیں، گاڑیاں جلائی جاتی رہیں، شہر میں نوگو ایریاز بنے ہوئے تھے، شہری ذہنی اذیت میں مبتلا تھے۔ کراچی کے حالات بہتر کرنے میں رینجرز کا اہم کردار ہے، رینجرز نے پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔

جب تک افسران تعیناتی کی مدت پوری نہیں کریں گے پولیس ریفارمز میں بہتری نہیں آسکتی، چیف سی پی ایل سی

زبیر حبیب نے پولیس ریفارمز میں بہتری کے لئے اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔ کہتے ہیں حالیہ افسران بہت قابل ہیں لیکن تھانوں کی سطح پر اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ جب تک افسران اپنی تعیناتی کی مدت مکمل نہیں کریں گے پولیس ریفارمز میں بہتری نہیں آسکتی، افسران کی تعیناتی کی مدت مکمل نہیں ہوپاتی کہ انہیں وہاں سے ہٹا دیا جاتا ہے جس سے کئی کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ افسران کی تعیناتی کی مدت کم از کم تین سال ہونی چاہئیے تاکہ وہ ایک لائحہ عمل کے تحت کام کرسکیں اور اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکیں۔ نئے پولیس آرڈر کے تحت افسران اپنی مدت پوری کریں گے جس کو یقینی بنانے کے لئے پبلک سیفٹی کمیشن نگرانی کرے گا۔

سندھ حکومت کی جانب سے لایا گیا نیا پولیس ایکٹ پرفیکٹ نہیں، زبیر حبیب

چیف سی پی ایل سی کا کہنا تھا کہ پولیس میں سیاسی مداخلت نے محکمے کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے، کوئی بھی کام جو ایک عرصے سے چل رہا ہو وہ راتوں رات ٹھیک نہیں ہوتا، ان کا کہنا تھا کہ پولیس حکام کو نئے پولیس ایکٹ میں تحفظات ہیں، ہر ترقی پذیر ملک میں قانون لایا جاتا ہے جو عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا جاتا ہے، سندھ حکومت کی جانب سے لایا گیا نیا پولیس ایکٹ پرفیکٹ نہیں ہے، اس نئے قانون کو مزید ٹھیک کرنے کے لئے سیاسی استحکام بھی ضروری ہے۔

جو خود کار ہتھیار پولیس کے پاس ہیں وہ شہری آبادی میں استعمال نہیں کئے جاتے، چیف سی پی ایل سی

پولیس کے زیر استعمال ہتھیاروں سے متعلق زبیر حبیب کا کہنا تھا کہ جو خود کار ہتھیار پولیس کے پاس ہیں وہ شہری آبادی میں استعمال نہیں کئے جاتے، یہ ہتھیار کچے کے علاقوں میں استعمال کئے جاتے ہیں جہاں پبلک ہو نہ ٹریفک۔ اے ڈی خواجہ صاحب کے دور میں ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار پولیس کو فراہم کئے گئے جس کے بعد کافی حد تک سیمی آٹو میٹک ہتھیاروں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا تناسب لندن اور دہلی سے کم ہے، زبیر حبیب چیف سی پی ایل سی

سی پی ایل سی چیف کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں زیادہ تر ہدف موبائل فونز ہوتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں قدرے کمی آئی ہے، 2013 میں 1 ہزار گاڑیاں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں جبکہ 2018 میں 175 گاڑیاں چھینی گئیں، وارداتوں کا تناسب 20 فیصد رہ گیا ہے۔ 2013 میں جہاں ساڑھے تین ہزار گاڑیاں چوری ہوئی تھیں وہی تعداد اب 1200 رہ گئی، گاڑیاں چوری ہونے کی وارداتیں 60 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہیں۔ زبیر حبیب کے مطابق لندن اور دہلی جیسے شہروں کا کراچی سے موازنہ کیا جائے تو واضح ہوگا کہ کراچی میں اتنے برے حالات نہیں۔ دہلی میں 2016 میں 13 سے 14 ہزار گاڑیاں چوری ہوئیں، لندن میں 8 ہزار گاڑیاں چوری ہوئیں جبکہ کراچی میں 1700 گاڑیاں چوری ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں کراچی میں ڈھائی ہزار لوگوں کو مختلف وارداتوں میں قتل کیا گیا جبکہ 2018 میں 326 لوگوں کا قتل ہوا۔

موٹرسائیکلوں میں ٹریکر لازم ہوں گے، عوام کو پابند بنایا جائے گا، چیف سی پی ایل سی

زبیر حبیب کے مطابق شہر میں سب سے بڑا مسئلہ موٹر سائیکل کی چوری ہے جس پر پولیس تاحال قابو نہیں پاسکی، موٹرسائیکلوں پر ٹریکر لگانے سے متعلق اقدامات جاری ہیں جس کے تحت موٹرسائیکلوں میں ٹریکر لازم ہوں گے اور عوام کو پابند بنایا جائے گا۔ گاڑیوں کی چوری میں کمی ٹریکر کی وجہ سے ہی آئی ہے، جب بھی ٹیکنالوجی اور انفورسمنٹ لائی جاتی ہے تو جرائم پیشہ افراد واردات کرنے میں ہچکچاتے ہیں، زبیر حبیب نے مہنگائی اور بے روزگاری کو شہر میں اسٹریٹ کرائم میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔

کاپی رائٹ ‘ناؤ نیوز’ ڈاٹ پی کے. بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔