NowNews.pk | 24/7 News Network

ملک بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھل گئے

ملک بھر میں تمام یونیورسٹیاں ،کالجز اور ثانوی تعلیمی ادارے 7ماہ بعد آج سے کھل گئے، تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاکھوں بچوں کو سکول واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں،ین سی او سی نے کہا ہے کہ والدین بچوں کو سکول بھیجتے وقت ایس او پیز کا خیال رکھیں، تعلیمی اداروں میں کپڑے یا سرجیکل ماسک لازمی ہوگا۔

کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بچوں کو سکول ہر گز نہ بھیجیں،تمام تعلیمی ادارے 15 سے 30 ستمبر کے دوران مرحلہ وار کھول دیئے جائیں گے، مانیٹرنگ کمیٹیاں ایس او پیز پر عملدرآمد کا معائنہ کریں گی۔

وزیر تعلیم سندھ نے کہا ہے کہ اگر کورونابڑھتا ہے تو سکول بند کئے جاسکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا کیسز میں کمی آنے کے بعد تقریبا 7 ماہ بعدآج سے سندھ بھر میں بھی تدریسی سرگرمیوں کا آغاز ہورہا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق والدین اور اساتذہ سے گذارش ہے کہ بچوں کو سکول بھیجتے وقت ایس او پیز کا خیال رکھیں، بچوں کو ماسک پہنا کر سکول روانہ کریں چاہے وہ کپڑے کا ماسک ہی کیوں نہ ہو، بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں سکول ہر گز نہ بھیجیں۔

این سی او سی کے مطابق اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے، ٹیسٹ مثبت آنیکی صورت میں سکول کو مطلع کیا جائے، بچوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔

این سی او سی کے مطابق یقینی بنائیں کہ بچے اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں یا ہینڈ سینیٹائیزر کا استعمال کریں، ڈرائیور حضرات جو بچوں کو اسکول یا کالج لے کر جاتے ہیں وہ اپنی گاڑیوں میں سماجی فاصلہ یقینی بنائیں، گاڑی میں بیٹھاتے وقت یقین کریں کہ بچوں نے فیس ماسک پہنے ہوں۔

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں جماعت سے لے کر جامعات کھولی جائیں گی۔22 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت جبکہ 30 ستمبر کو پری پرائمری اور پرائمری کلاسزبھی بحال ہو جائیں گی۔

اگر کسی سکول یا علاقے میں کورونا بڑھتا ہے تو وہ سکول یا متعلقہ علاقے کے سکولز بند کئے جاسکتے ہیں ، سکولوں کے لئے بنائی گئی ایس او پی ایز کے مطابق طلبا، اساتذہ اور سکول عملے کے لیے سرجیکل یا کپڑے کا ماسک لازمی ہوگا، تمام تعلیمی ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اگر کسی بچے کو بخار یا کھانسی ہے تو وہ اسے سکول نہ آنے دیں۔

بچوں کو وقفے وقفے سے ہاتھ بھی دھونے ہوں گے، ایک دوسرے سے لنچ شیئرنہیں کرنا ہوگا، اساتذہ کو بچوں کو سماجی فاصلے کی ہدایت کرتے رہنا ہوگا،جبکہ طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی آگاہی دئیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاکھوں بچوں کو سکول واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی ترجیح اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہر بچہ حصولِ علم کیلئے بحفاظت سکول جاسکے، ہم نے سکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کو صحتِ عامہ کے قواعد سے ہم آہنگ بنانے کا بطورِ خاص اہتمام کیا ہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔