NowNews.pk | 24/7 News Network

پشاور: جنس تبدیلی کے لئے لڑکی کا عدالت سے رجوع

پشاور سے تعلق رکھنے والی لڑکی سرکاری ریکارڈ میں اپنا نام اور جنس تبدیل کرنے کے لئے پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئی۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے غریب والدین جو انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں ان کی مدد کرنے کیلئے طبی طریقہ کار کے ذریعے اپنی شناخت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

لڑکی نے اپنے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ کے ذریعہ درخواست دائر کی اور جواب دہندگان میں پاکستان فیڈریشن چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین اور پشاور کے تین بڑے اسپتالوں کے ڈائریکٹرز کو نامزد کیا۔

درخواست میں لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ایک لڑکے کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ ایک غریب کنبہ سے ہے اور اس کے والد ماہی گیر ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ لڑکوں والے کپڑے پہننا اور کرکٹ کھیلنا پسند کرتی ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ سفر کیلئے موٹر سائیکل بھی چلاتی رہی ہے ۔

لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شناخت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ لڑکا بن کر وہ اپنے والدین کی مدد کیئے جاب ڈھونڈے گی۔ اس کا کہنا تھا کہ لڑکی کیلئے زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور جاب بھی نہیں مل پاتی۔

لڑکی نے کہا کہ لڑکیوں کو جاب کی جگہ پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان کیلئے اپنی فیملی کی مدد کرنا مشکل ہوجاتا ہے، اس نے کہا کہ یہ سب کچھ ذہن میں رکھتے ہوئے وہ طبی طریقہ کار کے ذریعے جنس تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

لڑکی نے کہا کہ اس کے ڈاکٹر نے اسے جنس کی تبدیلی سے قبل عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تاکہ بعد میں کوئی قانونی پیچیدگی پیدا نا ہو۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔