NowNews.pk | 24/7 News Network

زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کا حامی ہوں

وزیراعظم عمران خان نے ترسیلات زر میں نمایاں اضافے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ اگست 2020ءمیں سمندر پار پاکستانیوں نے ترسیلاتِ زر کی مد میں 2,095 ملین ڈالر بھجوائے جوگزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 24.4فیصد زیادہ ہیں‘ ماضی میں حکمران طبقہ نے اپنے مفادات کےلئے ملکی وسائل کا غلط استعمال کیا‘ٹیکس نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب عناصر عبرتناک سزا کے مستحق ہیں‘انہیں سرعام پھانسی دی جانی چاہئے‘ایسے افراد کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہئے تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں‘کیمیائی طریقے یا سرجری کے ذریعے ایسے لوگوں کو نامرد بنا کرآئندہ ایسےجرم کے قابل نہ چھوڑا جائے۔

سردیوں میں ملک میں کورونا وائرس کی نئی شدید لہر آ سکتی ہے‘اپوزیشن والے اپنے قائدین کی کرپشن کو بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر اور کورونا کے بعد اب فیٹف پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا‘ خارجہ تعلقات کے حوالہ سے قوم کے بنیادی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، کشمیر کے حوالہ سے بھارت سنگین غلطی کا مرتکب ہوا ہے، کشمیری عوام کو جب بھی موقع ملا وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق پیرکو ایک انٹرویومیں وزیراعظم کا کہناتھاکہ ہم کورونا سے نکل گئے ہیں تاہم ہمیں ابھی بھی احتیاط برقرار رکھنا ہو گی‘ اگر میں سخت لاک ڈاؤن کے حوالہ سے دباؤ میں آ جاتا تو پاکستان میں بھی حالات بہت خراب ہوتے ۔

انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن میں واویلا کرنے والے اپنے دور حکومت میں ملک کو کنگال کرکے گئے، یہ جمہوری اپوزیشن نہیں بلکہ ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا یہ ہے کہ کس طرح اپنے لیڈرز کی کرپشن کو بچایا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار کی ایک کمزوری ہے جس سے انہیں نقصان ہوتا ہے اور مخالفین فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ میڈیا پر آ کر اور شہباز شریف کی طرح اشتہارات کے ذریعے اپنی تشہیر نہیں کرتے اس لئے انہیں ہدف بنایا ہوا ہے۔

عثمان بزدار کرپٹ نہیں ہیں، وہ ایک مشکل حکومت کو چلا رہے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں پولیس اور بیورو کریسی کو سیاسی بنا دیا تھا، ان حالات میں ٹیم بنانا ان کیلئے ایک مشکل کام تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ عثمان بزدار کی حکومت مکمل ہو تو پنجاب میں غربت کم اور ترقی کا عمل تیز ہو۔

عمران خان نے کہا کہ حتمی طور پر لوگوں کی جانب سے سوال یہ نہیں ہو گا کہ کتنے عہدیدار تبدیل کئے گئے بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ صوبہ میں کتنی بہتری آئی ہے، اس طرح کی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی، یہ وزیراعلیٰ کا اختیار ہے، موجودہ آئی جی کارکردگی دکھائیں گے تو عہدے پر برقرار رہیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو لانے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ لاہور میں پولیس نچلی سطح پر قبضہ گروپوں سے ملی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ گروپ نے کچھ دن قبل ایک آدمی کو قتل تک کردیا اور اس قتل کا پولیس کو علم تھا۔ اوپر کی سطح پر کرپشن 90 دن میں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا آج چیلنج کرتا ہوں کہ کابینہ میں کسی نے کرپشن نہیں کی، باقاعدہ رپورٹ لیتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں ویلج کونسل کے الیکشن ہوں گے اور فنڈز گاؤں کی سطح پر جائیں گے، جب منتخب میئر اپنے شہر کو ملک کی طرح چلائے تو تب ہی مسائل حل ہوں گے، اس طرح نیا پاکستان بنے گا۔کراچی پاکستان کی گروتھ کا انجن اور مالیاتی کیپٹل ہے، اس کی ترقی ہماری ترجیح ہے۔

موٹروے واقعہ کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس پر بہت صدمہ ہوا‘اس طرح کے سانحات صرف پولیسنگ سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے دیگر پہلو بھی ہیں‘اس طرح کے واقعات کے انسداد کیلئے ملوث عناصر کا ریکارڈ مرتب کرنے اور سخت سزاؤں کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے‘پورے معاشرے کو ان کی روک تھام کیلئے مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔

مسئلہ کشمیر، کورونا اور اب فیٹف کے معاملہ پر بلیک میل کیا جا رہا ہے‘اب صورتحال قوم کے سامنے ہے، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ اس نظام کو منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔