NowNews.pk | 24/7 News Network

میرے پاس خلیل نہیں، دلیل ہے

تحریر : ہلال نجمی

آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جگہ جگہ خواتین کے حقوق کے لئے ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ سب ہی خواتین کا مطالبہ ہے کہ ان کو حقوق دئیے جائیں۔

مانا کہ خواتین کو ضرور جائز حقوق ملنے چاہئیں۔ خواتین کے ساتھ کسی بھی صورت میں زیادتی ناقابل برداشت ہے اور ہونی بھی چاہئیے۔ خواتین اچھے اور بہترین معاشرے کا اہم کردار ہیں۔ جو بھی خواتین کے حقوق کو سلب کرے گا وہ لازمی سزا کا حق دار ہے۔

خواتین کو حقوق نہ ملنا یہ سب اسلام سے پہلے کی باتیں ہیں۔ اب تو خواتین کو نہ صرف حقوق دئیے جارہے ہیں بلکہ باعزت مقام بھی دیا جارہا ہے۔

خواتین کا ایک مخصوص ٹولہ نہ جانے کیوں اس بات کو ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کا کوئی مقام نہیں کوئی عزت نہیں۔ میرے ان خواتین سے چند سوال ہیں۔

کیا اس دور میں خواتین کو تعلیم سے روکا جاتا ہے؟

کیا خواتین کو دفاتر میں نوکری نہیں دی جاتی؟

کیا خواتین کو کوئی کاروبار نہیں کرنے دیا جاتا؟

کیا فوج، رینجرز، پولیس یا کسی بھی سکیورٹی ادارے میں خواتین نہیں؟

کیا خواتین کو ان کے شوہر عزت نہیں دیتے، محبت نہیں دیتے، خرچہ نہیں دیتے؟

بیٹیوں کو تعلیم کون دلاتا ہے؟ ان کی شادی ان کا جہیز کون دیتا ہے؟

اپنی بیوی کے لئے پوری دنیا سے کون لڑ جاتا ہے؟

اپنی ماں بہن بیٹی بیوی کا علاج کون کرواتا ہے؟

کیا خواتین کو کسی نے گاڑیاں، موٹر سائیکلیں چلانے سے روکا ہے؟

’’ میرا جسم میری مرضی‘‘ کی پیروکار خواتین چاہتی ہیں کہ شادی ہی نہ کریں اور کر بھی لیں تو ان کی مرضی شوہر کے ساتھ جسمانی تعلق رکھیں یا نہ رکھیں۔

گذشتہ سال عورت مارچ میں اٹھائے گئے بینرز نے جو خواتین کی آزادی کا پیمانہ بتایا تو سب ہی صاحبِ غیرت مرد و خواتین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔

سمجھ نہیں آتا کہ جب ہم اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوسکتے، اپنی مرضی سے موت کو ٹال نہیں سکتے یعنی جب آپ کا اپنے اوپر ہی اختیار نہیں تو پھر کیسا میرا جسم میری مرضی۔

اگر ہم اسلامی ملک کے باشندے ہیں تو پھر خود کو شریعت اور دین سے آزاد کیوں کرانا چاہتے ہیں۔ دنیا میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں برے مرد بھی بری خواتین بھی، اچھے مرد بھی اچھی خواتین بھی اب یہ ہم پر انحصار ہے کہ ہم صحیح راستہ اختیار کریں یا بھٹکتے رہیں۔

اپنی سوچ اور اپنے مزاج کو دوسروں پر صادر کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ خود پردہ نہیں کرتیں نہ کرو لیکن پھر مردوں کو نیچی نگاہ سے چلنے کا مت کہو۔

جو نعرے خواتین کے حقوق کے نام پر اٹھائے جارہے ہیں وہ معاشرے میں صرف بگاڑ ہی پیدا کرسکتے ہیں جس سے سب کے ہی گھر جلیں۔ یہاں منظر بھوپالی کا ایک شعر یاد آگیا کہ

کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتہ جانتی ہے
کس طرف آگ لگانا ہے ہوا جانتی ہے

اجلے کپڑوں میں رہو یا کہ نقابیں ڈالو
تم کو ہر رنگ میں یہ خلق خدا جانتی ہے

میری عوام سے اپیل ہے کہ خدارا باشعور ہونے کے ناطے ہر اس فتنے کی نفی کریں جس سے قوم گمراہی کے دلدل میں قدم رکھے، اپنے گھر کی اپنی اولادوں کی ایسی تربیت کریں کہ نہ دنیا میں شرمندگی ہو نہ آخرت میں۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔