NowNews.pk | 24/7 News Network

میں اپوزیشن سے بلیک میل نہیں ہوں گا

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ابھی بھی کورونا کیخلاف بڑی جنگ لڑ رہا ہے‘ خدشہ ہے کہ کورونا کی دوسری لہر آ سکتی ہے‘ آنے والے دو مہینوں میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے‘پہلی دفعہ ملک میں میرٹ پر احتساب ہو رہا ہے جبکہ چھوٹے چھوٹے مافیا تبدیلی آنے میں رکاوٹ ہیں‘جب بھی ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں تو عدالت سے اسٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے‘جزا اور سزاکا نظام ختم ہونے سے سسٹم نیچے چلاگیا‘بہت جلد خیبرپختونخوا کی طرز پر پنجاب کے ہر شہری کو صحت انصاف کارڈ فراہم کر دیں گے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں ترامیم کرکے فارما انڈسٹری کی مدد کرنے جارہے ہیں تاکہ ادویات کی قیمتیں کم ہو سکیں‘ معمولی کھانسی پر لندن جانیوالوں کو کیا پتہ پاکستان کے اسپتالوں کا کیا حال ہے‘ تمام جیب کترے ایک اسٹیج پر کھڑے ہو کر شور مچا رہے ہیں‘ تمام چوروں کا احتساب ہو گا اب ان سے کسی صورت بلیک میل نہیں ہونگے۔

30 سال سے باریاں لینے والے ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے اب جیلوں میں جانا ہے‘مجھے لوگ کہتے ہیں کہ کہاں گیا نیا پاکستان ؟ اور میں انہیں سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں کہ تبدیلی کسی سوئچ کا نام نہیں جو دبانے سے آجائے ‘ نیا پاکستان ایک سوچ ہے جس کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں‘ جو نوجوان کامیاب زندگی کیلئے بل گیٹس کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ قرآن مجید کا مطالعہ کریں۔ وہ بدھ کے روز ایوان اقبال لاہور میں انصاف ڈاکٹر فورم کے زیر اہتمام منعقدہ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں ‘جن شہروں میں اسموگ زیادہ ہے وہاں بیماری کے زیادہ امکانات ہیں۔ لاہور‘ کراچی، گوجرانوالہ‘ فیصل آباد اور پشاور میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے اپیل کی کہ آئندہ دو ماہ بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور تمام لوگ ماسک استعمال کر نے کے ساتھ ساتھ حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور شوکت خانم تین سال میں مکمل کرلیا مگر پرانے اسپتالوں کو ٹھیک کرنا ایک چیلنج ہے‘ چھوٹے چھوٹے مافیا تبدیلی آنے میں رکاوٹ ہیں ، جب بھی ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں تو عدالت سے اسٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ کے پی کے میں 3 سال بعد لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ تبدیلی کدھر ہے تاہم 5 سال بعد رزلٹ آیا تو کے پی کے کی تاریخ میں پہلی بار کوئی حکومت دوسری بار برسر اقتدار آئی اور دو تہائی اکثریت حاصل کی۔

محکمہ اوقاف اور متروکہ وقف املاک کی زمینیں سستے داموں فروخت کریں گے تاکہ ان پر اسپتال بنائے جاسکیں۔عمران خان کا کہنا تھاکہ اصلاحات لانا آسان کام نہیں ہوتا۔ جب پوری قوم تبدیلی کے لئے مل کر جدوجہد کرتی ہے توپھر تبدیلی آتی ہے ۔

انہوں نے اپوزیشن کے حوالے سے کہاکہ ان لوگوںنے ملک میں چوری کی ، غداری کی لیکن اب ان کا احتساب ہوگا ، ملک میں وہ وزیراعظم ہے جو آپ سے بلیک میل نہیں ہوگا ، آپ جو مرضی کر لیں ہم نے آپ کا احتساب کرنا ہے، آج پاکستان میں فیصلہ کن وقت ہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔