NowNews.pk | 24/7 News Network

واقعۂ کربلا، مختصر جھلک (تحریر : مسرور زیدی)

دین اسلام پر ایمان رکھے احکام خدا پر عمل کرتے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان دنیا کے ہر گوشے میں موجود ہیں۔ چودہ سو سال کا عرصہ عبور کرکے ان احکامات کا اپنی اصلی شکل میں یہاں تک پہنچنا ایک عظیم معجزہ ہے اور اس معجزے کو زندہ رکھنے والی ہستی کو حسین کہتے ہیں۔ اسی ہستی سے منسوب محرم الحرام اسلام تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔


"بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے جب سے اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی درست دین ہے پس تم ان میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو”۔
(القرآن، التوبہ 36)۔

حدیث پاک کے مطابق حرمت والے مہینوں کے نام ذی القعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ہیں۔
(صحیح بخاری، جلد 4، کتاب 54، حدیث 419)

محرم الحرام میں ہی انسانی و اسلامی تاریخ کا اندوہ ناک واقعہ کربلا رونما ہوا جس میں نواسہ رسول، لخت جگر بی بی فاطمہ زہرہ، شیر خدا کے نورعین اور تیسرے امام حضرت امام حسین علیہ السلام کو تین روز کا بھوکا پیاسہ شہید کردیا گیا۔ اس سانحے کی ابتدا یزید ابن معاویہ ابن ابوسفیان کے اقتدار سنبھالتے ہی ہوچکی تھی۔

ستائیس رجب ساٹھ ہجری کو امام حسین علیہ السلام نماز مغرب و عشاء تمام کی مصلے پر تشریف فرما تھے۔ پہلو میں عبداللہ ابن جعفر، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن زبیر، اور عبداللہ ابن عباس تھے۔ مورخ لکھتا ہے کہ مسجد میں حکومت کا ایک سپاہی بمعہ جوتوں کے اندر داخل ہوا اور اپنی کمر سے خط نکال کر امام حسین علیہ اسلام کے طرف پھینکا۔ امام حسین علیہ السلام نے کہا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ’ اور خط اٹھا کر بغیر پڑھے چلے۔ چاروں عبداللہ نے پوچھا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ کہا شام کا حکمران معاویہ ابن ابو سفیان نہیں رہا۔ گورنر نے ہمیں بلایا ہے۔ امام حسین علیہ السلام حاکم مدینہ ولید بن عتبہ کے پاس پہنچے۔ ولید نے کہا یزید ابن معاویہ حکمران بن گیا ہے اس کی بیعت کیجئے۔ امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا کہ اہل بیعت نبوت کسی کی بیعت نہیں کرتے۔

دباؤ بڑھا تو نواسہ رسول علیہ السلام نے 28 رجب 60 ہجری کو رخت سفر باندھا اور خاندان کے افراد کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے۔ کچھ ماہ بیت اللہ کے سائے میں گزارے۔ 2 محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا پہنچے۔ یزیدی فوج کے سپہ سالار حر بن یزید تمیمی نے راستہ روک کر دباؤ ڈالا کہ اس بے آب و گیاہ مقام پر پڑاؤ ڈالیں۔ امام اعلی مقام علیہ السلام نے اس موقع پر صحرا کا نام پوچھا۔ کسی نے کہا اس مقام کا نام "عقر” ہے۔ کسی نے کہا اس کا دوسرا نام "نینوا” ہے اور اس کو کربلا بھی کہا جاتا ہے۔ امام علیہ السلام نے کربلا نام سن کر فرمایا یہ رنج و غم کا مقام ہے اور ساتھیوں کو خیمہ زن ہونے کی ہدایت کی۔

تین محرم الحرام کو گورنر کوفہ عبداللہ ابن زیاد کی جانب سے عمر بن سعد کو فوج کا سپہ سالار بنا کر چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ کوفہ سے کربلا پہنچا۔

سات محرم الحرام کو ابن زیاد کے حکم پر ابن رسول علیہ السلام، ان کے اہل و عیال اور ساتھیوں پر نہر فرات سے پانی بند کردیا گیا۔

گھوڑے کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
آتے تھے اونٹ گھات پر باندھے ہوئے قطار
پانی کا دام و در کو پلانا ثواب تھا
اک ابن فاطمہ کے لئے قحط آب تھا
(میر انیس)

10 محرم الحرام 61 ہجری وہ دن تھا جب گھرانہ نبوت و امامت پر ظلم کی انتہا کردی گئی۔ تین روز کے بھوکے پیاسے چھ ماہ کے شہزادہ علی اصغر ابن حسین کو بھی نہ چھوڑا گیا۔ لشکر یزید قتال کے بعد شہیدوں کے اجسام کی حرمت پامال کرنے سے بھی باز نہیں رہے۔کربلا میں نواسہ رسول امام حسین عليہ السلام کو اہل خانہ اور اصحاب سمیت بھوکا پیاسا شہید کردیا گیا۔

نواسہ رسول نے شہید ہو کر نانا کے مذہب کو ایسی جلا بخشی کے چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی اس کی روشنی دو عالم میں موجود ہے۔

کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے
کربلا تخت کو تلوووں سے مسل سکتی ہے
کربلا خار تو کیا ، آگ پہ بھی چل سکتی ہے
کربلا وقت کے دھارےکو بدل سکتی ہے
کربلا قلعہ فولاد ہے جراروں کا
کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا
(جوش ملیح آبادی)

حسینیت کا پرچم آج بھی پورے آب و تاب سے لہرا رہا ہے اور یزید کا نام لیوا بھی موجود نہیں۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
(مولانا محمد علی جوہر)

امام عالی مقام کی تعلیمات آج پوری دنیا کے لئے مثال ہیں جس پر عمل کرکے نہ صرف دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے بلکہ خدائے بزرگ و برتر کی رحمت کو بھی اپنی جانب مبذول کیا جاسکتا ہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔