NowNews.pk | 24/7 News Network

سندھ کے کورونا فنڈ میں کروڑوں روپے کی خرد برد

رپورٹ: ناصر آرائیں، نمائندہ سکھر

سکھر سمیت سندھ بھر میں صحت افسران نے کورونا فنڈز کو بھی نہ چھوڑا، ملازمین سے ہیلتھ رسک الاؤنس کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرلیے، شکایات کے باوجود اعلیٰ حکام نے چپ سادھ لی۔

زرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عملے کو جولائی سے ہیلتھ رسک الاؤنس جاری کردیا گیا ہے جس سے صحت حکام نے بھرپور استفادہ حاصل کرنا شروع کردیا ہے اور اس میں بھی کرپشن کرنا شروع کردی ہے۔

سکھر سمیت سندھ بھر میں جنگ میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز سے الاؤنس ملنے کے بعد صحت حکام، لیڈی ہیلتھ سپروائزر کی جانب سے فی کس 7 سے 10 ہزار روپے کی رقم وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے اور صرف سکھر ضلع میں 1135 لیڈی ہیلتھ ورکرز سے یہ رقم وصول کرلی گئی ہے۔

سندھ بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی رقم وصول کی گئی ہے رقم کی وصولی کے خلاف سکھر سمیت مختلف اضلاع میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے اس قسم کی شکایات ڈی ایچ اوز کو کی گئی ہیں لیکن انہوں نے کوئی ازالہ تک نہیں کیا ہے جس سے ان صحت افسران کی کورونا سے جنگ کرنے کی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔

سندھ بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اس حوالے سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اس حوالے سے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو، سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر کاظم جتوئی، ڈی جی ہیلتھ سندھ ڈاکٹر ارشاد میمن کو بھی شکایات ارسال کی گئی ہیں لیکن ان کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔