NowNews.pk | 24/7 News Network

میر شکیل الرحمان جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور کی احتساب عدالت نے پلاٹوں کی خرید میں غیرقانونی رعایت کے الزام میں گرفتار میر شکیل الرحمان کو بارہ روز جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔

عدالت نے اعتزاز احسن کی درخواست پر تاریخ تبدیل کردی۔ عدالت نے گیارہ روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا تاہم اعتزاز احسن کی درخواست پر میر شکیل الرحمان کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 25 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران میر شکیل الرحمان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز کا کہنا تھا کہ میر شکیل کہیں نہیں بھاگ رہے لیکن نیب نے ملزم کا موقف نہیں سنا اور گرفتار کر لیا، شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے اس طرح گرفتار کیا، میر شکیل الرحمان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ۔

اعتزا احسن کا کہنا تھا کہ جب چیرمین نیب نے میر شکیل کے کیس کی فائل دیکھی ہی نہیں تو وارنٹ کیسے جاری کر دیے۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

اعتزا احسن کا کہنا تھا کہ میر شکیل نے ایل ڈی اے سے زمین نہیں خریدی۔ زمین کسی پرائیویٹ بندے سے قانون کے مطابق خریدی۔ زمین میں کس بھی قسم کی دو نمبری نہیں ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ میر شکیل کب نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ میر شکیل کل نیب کے سنے پیش ہوئے اور کل ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

عدالت نے پوچھا کہ میر شکیل پر کیا الزامات ہیں۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ میر شکیل نے نواز شریف سے جوہر ٹاون میں 54 کنال اراضی غیر قانونی طور پر اپنے نام الاٹ کرائی، تمام پلاٹ نہر کنارے واقع ہیں۔

عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ نے میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیوں کیا۔ نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ میر شکیل نے ہمیں نہ تو ریکارڈ دیا نہ نیب کے ساتھ تعاون کیا، ملزم سے مزید تفتیش درکار ہے ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

بیرسٹر اعتزا احسن کا کہنا تھا کہ میر شکیل نیب سے مکمل تعاون کر رہے تھے پھر بھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے وقت میر شکیل الرحمان کو اریسٹ وارنٹ نہیں دیے گئے۔ یہ 34 سال پرانا کیس ہے جس میں گرفتار کیا گیا۔ پہلے نیب کیوں اس معاملے پر خاموش رہا۔ میر شکیل الرحمان پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔