NowNews.pk | 24/7 News Network

سندھ: ہیلتھ ورکرز سے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت لینے کا انکشاف

رپورٹ: عبید شیخ، نمائندہ خصوصی سندھ

محکمہ صحت سندھ کے افسران رشوت خوری میں ملوث نکلے۔ سکھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز سے ہر ماہ لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز میں سے بڑی تعداد ان پڑھ ہے اور ان کے سرٹیفکیٹس تک جعلی ہیں جن کی بھرتی لین دین کے بعد کی گئی ہے۔ اس لیے ان سے ہر ماہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کوآرڈینیٹر، اکاؤنٹس افسر، اکاؤنٹس برانچ کا عملہ ہر ماہ لاکھوں روپے وصول کرتا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اکاؤنٹس آفس کے انچارج نے تو ٹھکراٹو اور مبارک پور میں اپنے ایجنٹ تک مقرر کررکھے ہیں جن میں ایک ہیلتھ ٹیکنیشن اور ایک محکمہ ایجوکیشن کا کلرک بھی شامل ہے جو ہر ماہ رشوت وصول کرکے مذکورہ اکاؤنٹس افسر تک پہنچاتے ہیں.

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اکاؤنٹس افسر کی بیوی بھی اسی محکمے میں لیڈی ہیلتھ سپروائزر کے طور پر کام کررہی ہے ۔ اکاؤنٹس افسر نے اس کے سینٹر سے بھی وصولی کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق ڈی ایچ او کے دور میں اکاؤنٹس افسر اور اس کا عملہ لیڈی ہیلتھ ورکرز سے قرض دلوانے کے بہانے بھی لاکھوں روپے رشوت وصول کرچکا ہے۔

اس ساری صورتحال میں محکمہ صحت کے حکام شکایات ملنے کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔