NowNews.pk | 24/7 News Network

حق کا سفیر، محسنِ اسلام، حسینؑ زندہ باد

(تحریر : ہلال نجمی)

یہ کون لوگ ہیں جو آج کروڑوں کی تعداد میں لبیک یاحسین کی صدائیں دے رہے ہیں، حسینی پرچم تھامے اپنی حسینیت سے نسبت کا دعوی کررہے ہیں، کیا یہ لوگ دنیا کی لذتوں سے غافل ہیں، کیا یہ لوگ اپنے نفس کے ماننے والے نہیں، کیا یہ لوگ دنیاوی زندگی کے پیروکار نہیں۔

ہاں یہ لوگ سب جانتے ہیں کہ دنیا کی لذتوں میں ہلاکت، نفس کے ماننے میں خدا کی نافرمانی اور دنیاوی زندگی کی پیروکاری میں سوائے خسارے کے کچھ نہیں۔ زندگی اللہ کی دین ہے جو موت کی امانت ہے تو کیوں نہ حق کا راستہ اپنائیں، کیوں نہ نواسئہ رسول کی تعلیمات پر عمل کریں، کیوں نہ دین اسلام کے وارث اہل بیت پر ہونے والے مظالم پر آنسوں بہائیں۔

کیا ان لوگوں کو کوئی روک سکتا ہے؟ اگر یہ ممکن ہوتا تو یہ سلسلہ واقعہ کربلا کے بعد ہی ختم ہوجاتا۔ معرکہ کربلا کو دو شہزادوں کی جنگ سمجھنے والے عقل و فہم کا استعمال کیوں نہیں کرتے۔ کیا آل رسول کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے وہ چاہتے تو کیا نہیں ہوسکتا تھا لیکن اپنے سروں کو نیزوں پر بلند کرکے ثابت کیا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔

دین اسلام پر امام حسین کا احسان ہے ورنہ مفاد پرستوں نے اسلام کو اپنے مزاج کے مطابق پھیلانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ رسول خدا نے کئی مواقع پر نشاندہی کی، کبھی مولا علی کا ہاتھ تھام کر بتایا کہ جس کا میں مولا اس کا علی مولا، کبھی بتایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ، کبھی در بتول پر کھڑے ہوکر باآواز بلند سلام کرنا تاکہ دیکھنے و سننے والے اس در کی فضیلت سمجھ جائیں، کبھی یہ کہنا کہ علی کا ذکر کرنا بھی عبادت ہے، کبھی حسنین رسول خدا کی پشت پر سوار ہوجائیں تو اپنا سجدہ طویل کردینا، رسول خدا کی ہر بات ہر حدیث ہر قول پر یقین رکھنے والے کیوں اہل بیت کو ماننے سے انکاری ہوگئے۔

کیوں مولا علی کو مسجد کوفہ میں شہید کردیا گیا، کیوں پہلے مولا حسن کو زہر دیا گیا نہ صرف یہ بلکہ ان کے جنازے پر تیر تک برسائے اور پھر کربلا کے میدان میں جو مظالم ڈھائے گئے ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

مظالم کا سلسلہ کربلا اور شام تک محدود نہ رہا بلکہ آج تک جاری ہے۔ آج بھی حسینی نظریے کو دبانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ ہر دور کا یزید ناکام ہی دکھائی دیا اور ہر دور کا حسینی اپنا سب کچھ لٹا کر، اپنی جان دے کر بھی کامیاب ہی رہا۔

موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ مسلم امہ کو حسینی نظریے پر عمل کرتے ہوئے عالمی سطح پر حق کی آواز کو بلند کیا جائے۔ کشمیر ہو، فلسطین ہو، برما ہو یا دنیا کے کسی بھی گوشے میں ظلم ہو اس کے خلاف آواز حق بلند کرنا ناگزیر ہے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔