NowNews.pk | 24/7 News Network

سندھ پولیس افسران کا اسمگلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث ہونے کا انکشاف

رپورٹ : ناصر آرائیں، سکھر
سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈی آئی جی سکھر اقبال دارا ایرانی تیل اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

ڈی ایس پی کرائم برانچ کے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی اقبال دارا اپنے پی ایس او محمد افضل کی معرفت بھتہ وصولی کرتا ہے، محمد افضل ایف سی کا ریٹائرڈ اہلکار ہے، بلوچستان سے سندھ میں غیرقانونی اسمگلنگ محمد افضل سربرہی میں ہورہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے جھٹ پٹ سے جیکب آباد اور شکارپور راستے سے ڈیلر نجیب کے 100 ٹینکر ایرانی تیل کے سکھر آتے ہیں، دادلو، سانگی و دیگر تھانوں کی حدود میں واقع پیٹرول پمپس کو تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ کی مد میں جیکب آباد کے تھانہ صدر کی چیک پوسٹ پر روزانہ تین لاکھ بھتہ وصول کیا جاتا ہے، کوئٹہ سے سکھر غیر قانونی اشیاء اسمگلنگ کے لئے آنے والی کوچز اور بسوں سے محمد افضل بس ٹرمینل کے اسٹارٹر نواب رائو کی معرفت بھتہ وصول کرتے ہیں، فی گاڑی سے بیس سے پچیس ہزار بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔

ڈی آئی جی نے اکاؤنٹنٹ امداد دایو کا تبادلہ کرکے اپنے من پسند ریاض سہتو کو اکائونٹنٹ مقرر کیا، مذکورہ اکاؤنٹنٹ سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع سے تیل اور مختلف بلز کی مد میں ماہانہ تین لاکھ روپے بھتہ بٹورتا ہے، رپورٹ میں مزید انکشاف

فون سی ڈی آر رپورٹ مطابق پی ایس او محمد افضل ڈی آئی جی ہائوس میں بیٹھ کر بھتہ وصولی کرتا ہے، اہلکار علی شیر کھوسو، علی بخش ابڑو، عبدالستار چاچڑ، عبدالجبار چاچڑ و دیگر اہلکار ڈی آئی جی کے لیے بھتہ وصول کرتے ہیں۔خیرپور کے صحافی عجیب لاکھو کی ڈی آئی جی کے خلاف کی گئی درخواست پر رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔