NowNews.pk | 24/7 News Network

شوگر ملز مالکان چینی بحران کے ذمہ دار قرار

من مانی قیمت طے کرنے اور سبسڈی حاصل کرنے کےلئے شوگرملزمالکان نے گٹھ جوڑ کیا۔ مسابقتی کمیشن کی انکوائری رپورٹ میں شوگرملزمالکان کو بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ دھندہ دوہزار دس سے جاری ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کے ذخائر پر حکومت سے جھوٹ بولا۔

شوگر ملز نےمن مانی قیمت طے اور سبسڈی حاصل کرنے کے لیے گٹھ جوڑ کیا۔ 6 ماہ میں 40 ارب روپے اضافی کما لیے۔

سال 2019 میں چینی کی فی کلو قیمت میں 19 روپے اضافہ ہوا۔ مسابقتی کمیشن نے شوگر بحران انکوائری رپورٹ مکمل کر لی۔

رپورٹ کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کے ذخائر پر حکومت سے جھوٹ بولا۔ ذخائر پر جھوٹ بول کر حکومت سے من پسند فیصلے کروائے گئے۔ پنجاب میں شوگر ملیں اسٹاک شیئر کر کے قیمتیں کنٹرول کرتی رہیں۔

یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو چینی کی فراہمی میں قیمتوں کے تعین میں بھی ملوں کو گٹھ جوڑ ثابت ہو گیا۔ کرشنگ سیزن کے آغاز میں تاخیر میں بھی ملوں کا گٹھ جوڑ ثابت ہوا۔ شوگر ملوں کے گٹھ جوڑ کا دھندہ دو ہزار دس سے جاری ہے۔

شوگر ملوں نے من مانی قیمت طے کرنے، سبسڈی حاصل کرنے کے لیے گٹھ جوڑ کیا۔ شوگر ملوں ںے چینی کی برآمد پر بھی مال بنانے کا منصوبہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق چینی مہنگی ہونے سے مٹھائی، مشروبات سمیت دیگر صنعتوں کو نقصان ہوا۔۔ چینی کی برآمد کی اجازت کے باعث قیمتیں بڑھیں۔

پنجاب میں چینی کی لاگت تینتالیس روپے سے اٹھہتر روپے فی کلو ہے۔ مسابقتی کمیشن نے چینی کی صنعت کو پابندیوں سے آزاد کرنے کی سفارش کردی۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔