NowNews.pk | 24/7 News Network

فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے، فوج کا دو ٹوک موقف

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے‘ فوج کا سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے‘ حالیہ قانون سازی ‘انتخابی اصلاحات ‘ سیاسی اموریا نیب کے معاملات میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں ہے‘یہ کام سیاسی قیادت نے خود کرناہے‘پاک فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں ‘موجودہ منتخب حکومت جو کہے گی ہم وہ کریں گے‘کل آپ حکومت میں آئیں گے ہم آپ کا بھی ساتھ دیں گے ‘ہم ملک میں کسی کو کوئی فساد برپا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈ ی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملکی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے ملاقات کی ہے‘ عسکری قیادت سے ملاقات میں اپوزیشن رہنماؤں نےصرف نیب پر تحفظات کا اظہار کیا جس کے جواب میں آرمی چیف کا کہناتھاکہ چیئرمین نیب کا تقرر اورالیکشن کمیشن کی تشکیل آپ نے کی ہے ‘آپ جانیں اورآپ کا کام جانے‘آپ کا فرض ہے دیکھیں ٹھیک بندہ لگایا ہے یا غلط۔

ملاقات میں شہباز شریف‘ بلاول بھٹوزرداری‘ سراج الحق‘ مولانا اسعد محمود اور شاہ محمود قریشی نے وفود کے ہمراہ شرکت کی۔ اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق یہ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے تھی مگر اس میں دیگر سیاسی امور بھی زیر بحث آئے۔

اعلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے ملاقات میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوج کاملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں‘عسکری قیادت نے فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر زور دیا‘ آرمی چیف نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کی مدد کرتی رہے گی۔ فوج نہیں چاہتی کہ انتخابات کی ذمے داری لے۔ الیکشن کرانا، الیکشن کمیشن‘ نگراں حکومت اور انتظامیہ کا کام ہے ۔ ماضی میں جب انتخابات ہوئے تنازعات اٹھتے رہے ہیں اس لیے فوج سکیورٹی کی ذمے داری ادا کرے گی، وہ بھی ان علاقوں میں جہاں انتظامیہ ضروری سمجھے گی کہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

آرمی چیف کی اس بات پر ملاقات میں موجود ایک اپوزیشن رہنما نے کہا کہ This is music to my ears۔ ملاقات میں ایک اپوزیشن رہنما کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا کہ وزیراعظم توہین آمیز بیانات دیتے ہیں، جس پر آرمی چیف نے کہا کہ تمام سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے ہیں، سیاست دان سیاسی معاملات آپس میں طے کریں، فوج کو اس معاملےسے دور رکھیں۔

ملاقات میں نیب قانون پر بھی بات ہوئی جس پر عسکری قیادت نے واضح کیا کہ انتخابی اصلاحات ‘نیب‘ سیاسی معاملات میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں۔یہ کام سیاسی قیادت نے خود کرنا ہے‘نیب کا قانون بدلنا ہے تو سیاسی قیادت مل کر بدلے۔ملاقات میں آرمی چیف نے کہا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں،یہ نظام چلتا رہے گا۔

علاوہ ازیں شیخ رشید نے بتایا کہ عسکری و سول قیادت میں دوستانہ ماحول میں باتیں ہوئیں‘ آرمی چیف نے بہت ہلکے موڈ میں باتیں کیں‘ عسکری قیادت نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے کو کہا کہ جب اسمبلی سے صدر کا ووٹ لینا ہو تو آپ کے والد کیلئے یہ اسمبلی حلال ہوتی ہے جب وہ ناکام ہوجائیں تو یہی اسمبلی حرام ہوجاتی ہے‘ آپ ہمیں کسی مسئلے میں نہ لائیں‘ ہمیں بھاشا ڈیم، نیلم جہلم، فاٹا، ٹڈی دل، سیلاب اور نالوں کی صفائی میں سول حکومت بلائے گی تو فوج لبیک کہے گی۔

عسکری قیادت نے سب سے اہم بات یہ کی کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ آپ الیکشن سے پہلے یا بعد میں کرلیں‘ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے الیکشن کے بعد گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کیلئے کہا ہے۔

آٓرمی چیف نے کہا آپ الیکشن سے پہلے صوبہ بنائیں یا بعد میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر مسلک سے متعلق مسئلے پر آپ سب کی نظر ہونی چاہئے‘ملک میں کسی بھی قیمت پر فسادات کی اجازت نہیں ہوگی، ملک کیخلاف سازش کرنے والے کے سامنے فوج کھڑی ہوگی‘ سیاست جانے اور آپ جانیں سیاست ہمارا کام نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق شیخ رشید نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ملاقات میں آرمی چیف نے خواجہ آصف کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی شب آپ نے مجھے فون کرکے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بات کی جس پر میراجواب تھا کہ کوئی دھاندلی نہیں ہوگی اور پھر آپ الیکشن جیت گئے ۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔