NowNews.pk | 24/7 News Network

سکھر کے سرکاری دفاتر میں رشوت خوری کا بازار گرم

رپورٹ: عبید شیخ، نمائندہ خصوصی سندھ

سکھر کے سرکاری دفاتر میں کسی بھی کام کے لئے رشوت لینا اور دینا معمول بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ محکموں کے افسران اپنے ہی غریب ملازمین سے ان کے کاموں کے لئے رشوت وصول کرنے لگے۔

ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں ریٹائرمنٹ اور پینشن شروع کرنے کے لئے الگ الگ ریٹ مقرر کر رکھے ہیں اور ان معاملات کو دیکھنے کے لئے ایجنٹ تک رکھے گئے ہیں۔ اگر کوئی رشوت نہ دے تو اس غریب ملازم کی فائل ہی دبادی جاتی ہے اور دفاتر کے کئی کئی چکر لگوائے جاتے ہیں۔

سکھر میں سرکاری ملازمین کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے قائم ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیس دفتر کم اور رشوت کا بازار زیادہ بن گیا ہے آفیس میں مختلف کاموں کے لیے الگ الگ ریٹس مقرر کیے گئے ہیں اور ان ریٹس پر عمل کرانے کے لیے باقاعدہ طور پر باقاعدہ طور پر ایجنٹس مقرر کیے گئے ہیں جو وصولی کرکے افسران تک پہنچاتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے لیے الگ تو پینشن شروع کرانے کے لیے الگ نرخ مقرر ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے اس عمل کی وجہ سے محکمہ صحت، تعلیم، ایریگیشن ودیگر محکموں میں تعینات اکاؤنٹس عملہ ملازمین سے کام کرانے کے لیے ملازمین سے بھاری رقوم وصول کرتا ہے اور پھر اس رقم میں سے حصہ نکال کر باقی رقم ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں کام کرانے کے لیے دی جاتی ہے جس کی شکایات ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفسر سننے کے بعد ان سنی کردیتے ہیں۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سندھ مختلف محکموں میں بیٹھی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔