NowNews.pk | 24/7 News Network

افغان جنگوں کی عجب کہانی ۔۔۔ تحریر: ہلال نجمی

افغانستان کا معاملہ بھی عَجَب ہے۔ 1933 سے 1973 تک 40 سال ایک بادشاہ ظاہر شاہ کی حکمرانی دیکھی۔ اس کے برعکس 1979 سے اب تک کے 40 سال میں سے 30 سال غیر ملکیوں کی حکمرانی اور بقیہ عرصہ میں سے بیشتر ماہ و سال خانہ جنگی بھگتی۔

ظاہر شاہ نے 1933 میں صرف انیس سال کی عمر میں تخت سنبھالا تھا اور 1973 میں غیر ملکی دورے کے دوران اپنے قریبی عزیز اور سابق وزیر اعظم سرداد داؤد خان کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوا۔ پانچ سال بعد اپریل 1978 میں ایک بغاوت میں سردار داؤد کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوا۔ اس کے بعد امن و استحکام افغانستان سے روٹھ گیا۔ بائیں بازو کی حکمراں جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں دراڑ پڑی۔ خلق اور پرچم گروہوں کی لڑائی کے دوران ہی دسمبر 1979 میں روسی فوج افغانستان میں داخل ہوئی۔

افغان عوام قابض فوج کے خلاف کھڑے ہوئے۔ دنیا بھر نے اس قبضہ کی مخالفت کی۔ پاکستان اور امریکا سمیت کئی ممالک نے افغانوں کی مزاحمت کی عملی تائید و حمایت کی۔ دس سال تک جاری رہنے والی یہ مزاحمت جنیوا معاہدے کے نتیجے میں ختم ہوئی اور 1989 میں روسی فوج افغانستان سے رخصت ہوئی۔ پاکستان اور کٹھ پتلی کابل انتظامیہ کے اس معاہدے میں افغان مجاہدین شامل نہیں تھے۔ ان مزاحمت کاروں نے 1992 میں کابل پر قبضہ کرکے نجیب اللہ کو اقتدار سے محروم کیا لیکن امن و سکون افغان عوام کا مقدر نہ بنا۔

مجاہدین کے مختلف گروہ آپس میں برسر پیکار رہے۔ اس خونریزی کا نتیجہ 1996 میں طالبان کے ظہور کی صورت میں نکلا۔ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کا سورج طلوع ہوا تو مخالفت میں شمالی اتحاد ابھر آیا۔ طالبان اور شمالی اتحاد کی کشمکش کے دوران ہی نائن الیون ہوا۔

امریکا نے ٹوئن ٹاورز پر حملے کا الزام القاعدہ پر لگایا۔ طالبان سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور آخرکار سات اکتوبر کو افغانستان پر حملہ کردیا۔ امریکا کے فوجی انیس سال گذرنے کے باوجود افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ یوں چار دہائیوں سے افغان عوام اپنی امنگوں کے ترجمان اور امن و سکون کو ترس رہے ہیں۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔