NowNews.pk | 24/7 News Network

تاجروں کا کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ

آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے صدر شرجیل گوپلانی کا کہنا ہے کہ شہر کو نئے ایڈمنسٹریٹرز کے بجائے فوج کے حوالے کیا جائے۔ نیب‘ وفاقی حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر کراچی کی تباہی کا نوٹس لیں۔ مضافاتی علاقوں کے لوگوں کو خوراک مہیا کی جائے اور مکانات کی تعمیر کے لیے مالی امداد بھی دی جائے۔

کراچی میں حالیہ بارشوں نے جہاں شہری آبادیوں کو نقصان پہنچایا ہے وہیں کراچی کے کاروباری علاقوں میں بھی بے تحاشا اور ناقابل تلافی نقصان کیا ہے۔ شہر کے کاروباری مراکز پانی میں ڈوب گئے ہیں جس کی وجہ سے ہر طرح کا کاروبار کرنے والے تاجروں کی دکانوں اور گوداموں میں پانی بھرنے سے کروڑوں کا نہیں بلکہ اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

شہر کے کئی علاقے ابھی بھی زیرآب ہیں جن کے لیے کسی قسم کی ریلیف کا کام نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ مضافاتی علاقوں مثلاً اورنگی ٹاؤن‘ سرجانی ٹاؤن‘ کورنگی وغیرہ میں لوگوں کے کچے مکانات ڈھے گئے‘ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے‘ خوراک کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔ ان کے لیے فوری امداد مہیا کی جائے اور مکانات کی تعمیر کے لیے مالی امداد بھی دی جائے۔

آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے صدر شرجیل گوپلانی نے اس نقصان پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت‘ نیب اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں فوری طور پر ایکشن لیں اور اس کے ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کراچی شہر کو پاکستان کا چہرہ مانا جاتا ہے‘ پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے اور ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والے اس شہر کے ساتھ بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت نے سوتیلی ماں کا سا سلوک کرکے بہت زیادتی کی‘ گزرتے وقت کے ساتھ اس کا انفرااسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کرنے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب‘ وفاقی حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر کراچی کی تباہی کا نوٹس لیں۔ یہ شہر ملک کا تجارتی و صنعتی حب ہے‘ ہر طرح کے تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر اس کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ کراچی کی صنعت و تجارت کا پہیہ چلے گا تو باقی ملک چلے گا ورنہ سب کا دیوالیہ ہوجائے گا۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔