NowNews.pk | 24/7 News Network

آذربائیجان، آرمینیا کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہے؟

تحریر: ظریف پشتون

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو شہر کے وسط میں کھڑی ’شعلے‘ کی شکل سے مشابہت رکھتی تین عمارتیں ’فلیم ٹاورز‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسے قدیم شہر کی تاریخ اور اس کے مزاج کی عکاس ہیں جسے ’شعلوں کی سرزمین‘ بھی کہتے ہیں۔

اس کے پہاڑی علاقوں میں ازخود آگ بھڑک اٹھتی تھی اور یہاں زرتشت دور کے ہیکل آج بھی موجود ہیں جہاں مقدس آگ جلائی جاتی تھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں آذربائیجان کا نام اور آگ سے اس کی نسبت بھی وہیں سے آئی ہے۔

تاہم ایک خیال یہ ہے کہ باکو میں مخلتف مقامات پر خصوصاً پہاڑی علاقوں میں ازخود بھڑک اٹھنے والی آگ کا موجب اس شہر میں پائے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔ بحر گیلان کے کنارے آباد باکو میں ہمہ وقت چلنے والی تیز ہوائیں اس آگ کو بھڑکاتی رہتی ہیں۔

گذشتہ صدی میں عالمی منڈی میں فروخت ہونے والا آدھے سے زائد تیل باکو سے نکالا جا رہا تھا۔ آج بھی باکو دنیا کی تیل کی کل کھپت کا پانچواں حصہ پیدا کرتا ہے۔ تیل کے پیسے نے باکو اور آذربائیجان کو ترقی اور خوشحالی دی ہے۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سنہ 1990 میں آزاد ہونے والی چھوٹی سی ریاست آذربائیجان نے تیل سے حاصل ہونے والی دولت سے گذشتہ 20 برس میں خوشحالی کی منازل انتہائی تیزی سے طے کی ہیں۔ دورِ حاضر کے باکو میں اس کی جھلک ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کا باکو سنہ 1994 کے باکو سے یکسر مختلف ہے۔ یہ وہ سال ہے جب آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے علاقے پر چھ سال تک جاری رہنے والی جنگ کا خاتمہ ہوا تھا، تاہم اس خطے پر تنازع اب تک ختم نہیں ہوا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس پہاڑی علاقے پر جاری تنازع کے باعث کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ سنہ 2016 میں ایک چار روزہ بڑی جنگ بھی ہوئی تھی جس میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اب ایک مرتبہ پھر آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے اور دونوں اطراف جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ ناگورنو قرہباخ کا علاقہ آخر اتنا اہم کیوں ہے؟ کیا حالیہ جنگ کے پیچھے تیل اور گیس کے ذخائر کا حصول مقصد ہو سکتا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ تیل کے پیسے سے حاصل ہونے والی دولت اور طاقت نے آذربائیجان کی حوصلہ افزائی کی ہو اور وہ ان علاقوں کو آزاد کروانا چاہتا ہو جو آرمینیا نے سنہ 1994 میں قبضے میں لے لیے تھے؟

ناگورنو قارہباخ کا تیل سے کیا تعلق ہے؟

بحرِ گیلان میں موجود بیش بہا تیل اور گیس کے ذخائر کو اس علاقے کے ممالک یورپ کو برآمد کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے دو راستے ہیں۔ ایک شمال مغربی روس اور دوسرا جنوب مغربی راستہ قفقاز یا کاکیشیائی ریاستوں سے گزرتا ہے۔

یورپ روس کے بجائے اس راستے کو ترجیح دیتا ہے اور اس سے گزرنے والی دو پائپ لائنیں اس کے لیے اہمیت کی حامل ہیں۔ یورپ اپنی گیس کی ضروریات کو یہاں سے پورا کرنے کے لیے مستقبل میں یہاں سے مزید پائپ لائنوں کی تعمیر کا خواہشمند ہے۔

سیاسیات کے ماہر اور تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق ناگورنو قارہباخ سے بھی چند پائپ لائنیں گزرتی ہیں تاہم یہ پہاڑی علاقہ خود گیس یا تیل کی پیداوار نہیں کرتا۔ ’اس علاقے میں کشیدگی عالمی منڈی اور خصوصاً یورپ کو گیس اور تیل کی ترسیل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔‘

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔