NowNews.pk | 24/7 News Network

اپیلوں پر کیا کیا جانا چاہیئے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو اشتہاری قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق جج ارشد ملک کے خلاف اپیل میں متفرق درخواست دائر ہے۔

جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اپیلوں پر کیا کیا جانا چاہیئے؟

نیب پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت سے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز پر اپیلیں مسترد کرنے کی استدعا کی گئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ نواز شریف کی اپیلیں میرٹ پر مسترد کر دی جانی چاہئیں۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ آج نہیں لیکن آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں، آئندہ سماعت پر عدالتی نظیریں پیش کریں کہ اشتہاری ملزم کی اپیل کا کیا کیا جانا چاہیئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس عدالت نے ارشد ملک کا کنڈکٹ بھی تو دیکھنا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ نواز شریف نے 5 گواہ پیش کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، دوسری درخواست ناصر بٹ نے دائر کر رکھی ہے، وہ بھی اشتہاری ملزم ہے۔

عدالتِ عالیہ نے کہا کہ جج ارشد ملک نے بھی ایک بیانِ حلفی دیا تھا جسے انتظامی اختیارات میں ریکارڈ کا حصہ بنا دیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں کہ پہلے متفرق درخواست کو دیکھنا ہے یا اپیلوں کو۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہائی کورٹ کی خصوصی عدالت پر سپروائزری تو موجود ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم اگر مفرور ہو بھی گیا تو عدالت نے قانون تو دیکھنا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ دے دیا اور کہا کہ تحریری آرڈر کچھ دیر میں جاری کریں گے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔