NowNews.pk | 24/7 News Network

شریف خاندان منی لانڈرنگ کیس، کب کیا ہوا۔۔۔

شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں نیب لاہور نے دو برس قبل جنوری میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ پر تحقیقات کا آغاز کیا۔

فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے اپنی رپورٹ میں شریف خاندان کے اکاونٹنس میں درجنوں بے نامی ٹرانزیکشن کی نشاندہی کی گئی، نیب رپورٹ کے مطابق شہباز شریف خاندان کے آثاثے پانچ کڑوڑ سے اربوں روپے تک منی لانڈرنگ کے ذریعے پہنچے۔

فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد نیب لاہور نے تحقیقات کا آغاز کیا جس کے بعد نیب لاہور کو چوہدری شوگر ملز سمیت دیگر بے نامی کمپنیوں سمیت رمضان شوگر ملز کے اکاونٹس سے بھی منی لانڈرنگ کے شواہد موصول ہوئے۔

نیب لاہور کو شہباز شریف ان کے بیٹوں سمیت ان کی اہل خانہ کے نام اربوںروپے کی رقم جعلی ٹی ٹیوں ک ذریعے وصول کرنے کے مزید شاہد موصول ہوئے۔نیب نے اکتوبر دو ہزار اٹھارہ میں باقاعدہ شہباز شریف خاندان کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا اور جبکہ اپریل دوہزار انیس میں انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔

نیب نے اپنی تحقیقات میں واضح کیا کہ بیس برس قبل شہباز شریف اور ان کے خاندان کے مجموعی اثاثوں کی مالیت پانچ سے چھ کروڑ روپے تھی لیکن دو ہزار اٹھارہ میں ان اثاثوں کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ گئی جبکہ اس دوران بیشتر بے نامی اکاونٹس اور کمپنیوں کا بھی انکشاف ہوا جس میں شریف خاندان اپنے ملازمین کے ذریعے منی لانڈرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے۔

دیگر خبریں

لوڈنگ ۔۔۔